پاکستان کرکٹ کا نیا تجربہ: نوجوان اسکواڈ کی سلیکشن – دانشمندانہ فیصلہ یا سنگین غلطی؟
پاکستان کرکٹ میں ہمیشہ سے ہی سلیکشن
کے معاملات تنازعات کا شکار رہے ہیں، اور اب ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے کہ نیوزی لینڈ
کے خلاف سیریز کے لیے مکمل طور پر نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ منتخب کیا جا
رہا ہے۔ اگرچہ نوجوان کرکٹرز کو مواقع دینا ایک مثبت قدم ہے، لیکن کیا نیوزی لینڈ
کی مشکل کنڈیشنز میں انہیں آزمانا دانشمندانہ فیصلہ ہوگا؟ یا یہ تجربہ ان کے
کیریئر کو خطرے میں ڈال دے گا؟
نیوزی لینڈ
کی کنڈیشنز اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے چیلنج
نیوزی لینڈ کی پچز ہمیشہ پاکستانی
کھلاڑیوں کے لیے مشکل رہی ہیں۔ وہاں کی باؤنسی اور سیمنگ وکٹیں خاص طور پر فاسٹ
بولرز کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہیں، جبکہ اسپنرز کو زیادہ کامیابی نہیں ملتی۔ اس
کے علاوہ، پاکستانی بیٹرز کو ہمیشہ نیوزی لینڈ میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، جہاں
گیند بلے پر ٹھیک سے نہیں آتی اور تیز گیندباز اکثر بیٹنگ لائن اپ کو بے بس کر
دیتے ہیں۔
ایسی کنڈیشنز میں سینئر کھلاڑی بھی
مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، تو کیا مکمل طور پر نوجوان کھلاڑیوں کو میدان میں اتارنا
ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی؟ اگر وہ ناکام ہوئے تو انہیں "نا اہل" قرار
دے کر ٹیم سے باہر نکال دیا جائے گا، جبکہ سینئرز آسان حریف بنگلہ دیش کے
خلاف واپسی کریں گے، جہاں وہ اپنی پرفارمنس دکھا کر دوبارہ ہیرو بن جائیں گے۔
کیا نوجوان
کھلاڑیوں کو مستقل مواقع ملیں گے؟
اگر پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) واقعی نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہتا ہے، تو انہیں مکمل
اعتماد بھی دینا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی کھلاڑی نیوزی لینڈ کے خلاف
اسکواڈ میں شامل ہوگا، اسے کم از کم 12
ماہ کے لیے ٹیم میں برقرار رکھنے کی
گارنٹی ملنی چاہیے،
چاہے ان کی کارکردگی جیسی بھی ہو۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ صرف ایک تجربہ ہوگا،
جس سے نوجوان کرکٹرز کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچے گا۔
سلیکشن
پالیسی میں شفافیت ضروری
پاکستان کرکٹ میں سب سے بڑا مسئلہ عدم
تسلسل (Inconsistency) رہا ہے۔ اگر نوجوان کھلاڑیوں کو صرف ایک
مشکل دورے میں آزمایا جائے اور پھر ناکامی کی صورت میں انہیں باہر کر دیا جائے، تو
یہ ان کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ اس کے برعکس، سینئر کھلاڑیوں کو ہمیشہ
رعایت دی جاتی ہے، چاہے وہ کئی مواقع ضائع کریں۔
یہی وجہ ہے کہ سلیکشن کمیٹی کو فیصلہ
کرتے وقت درج ذیل نکات پر غور کرنا چاہیے:
✅ کیا نوجوان کھلاڑیوں کو مستقل مواقع دیے جائیں گے؟
✅ کیا نیوزی لینڈ کے بعد بھی انہیں ٹیم میں برقرار رکھا جائے گا؟
✅ کیا سینئر کھلاڑیوں کو بھی اسی سختی سے جانچا جائے گا؟
حتمی تجزیہ:
یہ تجربہ کامیاب ہوگا یا ناکام؟
اگر نوجوان کھلاڑیوں کو صرف ایک دورے
کے لیے آزمایا جا رہا ہے اور ان کی ناکامی کی صورت میں دوبارہ سینئرز کو موقع دیا
جائے گا، تو یہ فیصلہ مکمل طور پر غیر منصفانہ ہوگا۔ لیکن اگر یہ ایک طویل مدتی
منصوبہ ہے، جہاں نوجوانوں کو مکمل اعتماد اور مواقع دیے جائیں گے، تو یہ پاکستان
کرکٹ کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
🚀 آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا مکمل نوجوان اسکواڈ کا انتخاب پاکستان
کے حق میں بہتر ہوگا یا یہ ایک خطرناک تجربہ ثابت ہو سکتا ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں
دیں!
#Pakistancricket
#Cricket
#Pakistan
#Babarazam
#Pakistancricketboard
#PakvsNZ